Tuesday, September 16, 2014

For those familiar with the Urdu language, here's  my latest piece of poetry:

میری تازہ  ترین   تخلیق، آزادی مارچ  کےنام انتساب کرنا چاہتی ہوں۔

تبدیلئ  حالات کی امید جواں ہے
آزاد‏ئ   جمہور کی تحریک  رواں ہے

بےربط خیالات میں پوشیدہ مضامیں
تقریرسے قاصر نہیں،  پابند زباں ہے

حاکم کوگوارا نہیں حق گوئی یہاں پر
سو شہرخرابات میں ہر سمت دھواں ہے

احباب میرے لہجے کی تلخی پہ ہیں برہم
غاصب کی خطا معاف کہ وہ شیریں بیاں ہے

جمہوری کرامات کی  یہ کیسی عنایت
ہردورمیں جمہور ہی بے مول یہاں ہے

بیبلی

Or you can visit my Urdu blog here:

No comments:

Post a Comment