Thursday, September 11, 2014

The ghazal in text form

خواہشوں کے بند سے، اجتناب، اور کیا
دل کی رہگزر پہ بس، اضطراب، اورکیا

ظاہری وجود کے، جمود پر نہ جائیے
دل کی بزم میں بپا ہے، انقلاب،اورکیا

آرزو کے دشت کی، خاک چھان کرکہا
ہمسفرتوہےفقط، اک سراب،اور کیا

زیست کی کتاب سے، چن کے لعل وگہرسب
اس کے نام کردئیے، انتساب، اورکیا

اتنے بے خبر نہیں، جانتے تو تھے سبھی
صحن گل اور بہار، اک خباب،اور کیا


No comments:

Post a Comment